خوشحال قیادت، بدحال ورکر—گوجرانوالہ کی صحافت کا المیہ!
(14 سالہ احتساب اور ورکر کے معاشی قتل کے خلاف “اعلانِ حق”)
منجانب: ملک توصیف احمد (سیکرٹری جنرل، PFUJ Workers)
گوجرانوالہ کے غیور اور جفاکش صحافی بھائیو!
آج میں کسی گروہ پر کیچڑ اچھالنے نہیں، بلکہ ایک ایسا تلخ تقابل آپ کی عدالت میں رکھنے آیا ہوں جسے پڑھ کر آپ کا ضمیر فیصلہ کرے گا کہ ہم کدھر جا رہے ہیں۔
گزشتہ 14 سالوں سے گوجرانوالہ کی صحافت پر “سات سات سال کی باریوں” کا ایک عجیب کھیل مسلط ہے۔ چہرے بدلتے رہے، گروہوں کے نام بدلتے رہے، لیکن ورکر کا مقدر نہ بدلا۔
ایک طرف بدحال ورکر ہے: وہ رپورٹر، فوٹو گرافر اور کیمرہ مین جو دن رات خبر کی تلاش میں سڑکوں کی خاک چھانتا ہے، جو کڑی دھوپ اور بارش میں شہر کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے، وہ آج بھی کرائے کے مکان میں رہنے پر مجبور ہے۔ مہنگائی کے اس طوفان میں اس کے پاس اپنے بچوں کے لیے ایک چھت تک نہیں۔
دوسری طرف خوشحال قیادت ہے: وہ مخصوص چہرے جو ان 14 سالوں میں پریس کلب کے سیاہ و سفید کے مالک رہے، ان کے پاس مہنگی پرائیویٹ سوسائٹیوں میں عالیشان گھر، چمکتی گاڑیاں اور پلاٹ کہاں سے آئے؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ انہوں نے آپ کا حق مارا، لیکن ہم یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ: کیا ایک لیڈر کا قد اپنی برادری سے بڑا ہونا چاہیے؟
اگر ان باری لینے والے لیڈروں کے پاس اتنا “اثر و رسوخ” (Influence) تھا کہ وہ پرائیویٹ سوسائٹیوں تک رسائی حاصل کر سکتے تھے، تو انہوں نے اس اثر و رسوخ کو کبھی عام صحافی کے لیے “اجتماعی ہاؤسنگ اسکیم” لانے کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا؟ سچ تو یہ ہے کہ:
عام ورکر کو ہمیشہ “محاذ آرائی” کی سیاست میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا گیا۔
ورکر کو “تسلیوں” پر بہلایا گیا، جبکہ قیادت نے اپنے تعلقات اور عہدے کو اپنی “انفرادی خوشحالی” کے لیے وقف رکھا۔
پریس کلب کو ایک “فلاحی ادارہ” بنانے کے بجائے “ذاتی تعلقات” استوار کرنے کی دکان بنا لیا گیا۔
ظلم کی انتہا: 5000 روپے ممبر شپ فیس!
اب جبکہ ورکر بیدار ہو رہا ہے، تو پریس کلب کے دروازے اس پر بند کرنے کا ایک نیا “معاشی منصوبہ” تیار کر لیا گیا ہے۔ معاشی بدحالی کے شکار رپورٹرز کے لیے 5000 روپے فیس مقرر کرنا دراصل ان کا معاشی قتل ہے۔ یہ فیس نہیں بلکہ وہ “جزیہ” ہے جو صرف اس لیے لگایا گیا ہے تاکہ عام ورکر پریس کلب کا ممبر نہ بن سکے اور ان کی اجارہ داری قائم رہے۔
کونسل ممبر کے لیے کم فیس اور نئے ورکر کے لیے دگنی فیس کا تضاد ثابت کرتا ہے کہ یہ لوگ پریس کلب کو ورکرز کی پناہ گاہ نہیں بلکہ “اشرافیہ کا ڈرائنگ روم” بنانا چاہتے ہیں۔ کیا ان 14 سالوں میں اس قیادت نے ورکرز کی تنخواہوں یا معاشی حالت کے لیے ایک بھی عملی قدم اٹھایا؟ اگر نہیں، تو آج کس اخلاقی بنیاد پر ان سے 5000 روپے بٹورے جا رہے ہیں؟
ہمارا مطالبہ اور عزم:
پی ایف یو جے (ورکرز) اس ظالمانہ فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فیس کو فوری طور پر ورکر کی پہنچ میں لایا جائے اور رجسٹریشن کی بحالی تک کسی بھی قسم کی “غیر قانونی وصولی” بند کی جائے۔
ہمیں ایسی قیادت نہیں چاہیے جو خود تو جزیروں میں رہے اور اس کا ورکر سیلاب میں ڈوبا رہے۔ ہمیں وہ قیادت چاہیے جو پہلے ورکر کی چھت کا سوچے، پھر اپنی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم “باریوں کے اس کھیل” کو ختم کریں اور پریس کلب کو دوبارہ “ورکرز کی پناہ گاہ” بنائیں۔
قیادت کے پاس سوسائٹیوں میں پلاٹ اور ورکر کے پاس پریس کلب کی فیس کے پیسے بھی نہیں۔ یہ ہے وہ 14 سالہ تبدیلی جو یہ گروپس لے کر آئے ہیں!
5000 فیس نامنظور — ورکر کو اس کا حق دو!
