HomeUnion,Archiveگوجرانوالہ: صحافی پر بے بنیاد 506-بی کا مقدمہ، انتظامیہ کی انتقامی کارروائی...

گوجرانوالہ: صحافی پر بے بنیاد 506-بی کا مقدمہ، انتظامیہ کی انتقامی کارروائی بے نقاب، پی ایف یو جے ورکرز کی مذمت 30-11-2025

ونوں فریقین کو سننے کے بعد کارروائی کرتی ہے اور کئی مرتبہ پارٹیوں کو کال کر کے حقیقت معلوم کرتی ہے، لیکن اس کیس میں صحافی کو سنے بغیر فوراً مقدمہ درج کر لیا گیا

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز نے گوجرانوالہ میں ایک مقامی صحافی شہباز ملک کے خلاف دفعہ 506-بی کے تحت جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا ہے کہ انتظامی ناکامیوں اور ناقص منصوبہ بندی کو بے نقاب کرنا کوئی جرم نہیں، لیکن گوجرانوالہ پولیس اور انتظامیہ نے سچ بولنے کی سزا کے طور پر انتقامی کارروائی کی ہے. مقامی صحافی نے حالیہ دنوں میں گھنٹہ گھر چوک کی غلط پیمائش، جناح روڈ چوک پر مونومینٹ کی ناقص تعمیر اور قلعہ چندا اوور ہیڈ بریج کے عوام دشمن یک طرفہ ڈیزائن کی نشاندہی کی تھی۔ ان رپورٹس کے بعد اچانک صحافی کے خلاف سنگین دفعات لگا کر مقدمہ درج کر دیا گیا، جسے شہری اور قانونی حلقے انتقامی ذہنیت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی واضح مثال قرار دے رہے ہیں۔ویسے تو پولیس عام طور پر دفعہ 506-بی کے مقدمات درج کرنے میں تاخیر کرتی ہے، دونوں فریقین کو سننے کے بعد کارروائی کرتی ہے اور کئی مرتبہ پارٹیوں کو کال کر کے حقیقت معلوم کرتی ہے، لیکن اس کیس میں صحافی کو سنے بغیر فوراً مقدمہ درج کر لیا گیا۔ حالانکہ صحافی تھانہ گرونانک پورہ کا رہائشی ہے اور 26 تاریخ کو اسی تھانے میں اپنی درخواست کسی دیگر معاملے کی بھی جمع کروا چکا تھا۔ اس غیر معمولی عجلت نے مقدمے کی شفافیت، غیر جانب داری اور قانونی عملداری پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق اگر انتظامیہ کو رپورٹنگ پر اعتراض تھا تو پیکا ایکٹ یا متعلقہ میڈیا قوانین موجود تھے، مگر جھوٹا مقدمہ اور قلم کو پستول بنا کر گرفتار کرنے کی کوشش آزادی اظہار رائے پر براہ راست حملہ ہے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ گوجرانوالہ کے کئی مقامی صحافی اس اہم معاملے پر خاموش دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ ایسے واقعات میں صحافی برادری کی یکجہتی وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ افراد نے انتظامیہ کا مؤقف بغیر تحقیق پھیلایا، جو صحافتی اصولوں کے منافی ہے۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے قائمقام صدر ملک توصیف احمد، سیکرٹری جنرل شاہد علی، فنانس سیکرٹری سید بلال عزت نقوی، انفارمیشن سیکرٹری عبدالرزاق چشتی، جوائنٹ سیکرٹری حسن رضا بخاری، صدر اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس ورکرز فرحان حسین جعفری اور جنرل سیکرٹری آر آئی یو جے ورکرز چنگیز خان جدون نے اس واقعے کو گوجرانوالہ پولیس کا انتہائی گھٹیا اور افسوسناک اقدام قرار دیا ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ صحافی پر جھوٹا مقدمہ بنا کر نہ صرف پیشہ ورانہ آزادی سلب کی جا رہی ہے بلکہ عوام کے حقِ معلومات پر بھی قدغن لگائی جا رہی ہے۔پی ایف یو جے ورکرز نے آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس پی آر، چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کا فوری، شفاف اور سخت نوٹس لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔رہنماؤں نے عالمی صحافتی تنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی انتقامی کارروائیوں پر آواز بلند کریں اور اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کریں۔

#pfujworkers#IFJ#maliktouseefahmed

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments